اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی حکومت کے وزیرِ خزانہ بزالیل اسموتریچ نے پیر کے روز غزہ پٹی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ منصوبہ اس جنگ کے بعد دسویں اکتوبر سے جنگ بندی سے متعلق ہے، جسے غزہ میں اسرائیل اور امریکہ کی حمایت یافتہ نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار ہاآرتص کے مطابق، اسموتریچ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نئی صہیونی بستی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی اسرائیل کی غیر معمولی حمایت اور نیک نیتی پر ان کا شکریہ ادا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کے اس کردار پر بھی شکر گزار ہیں جس کے ذریعے غزہ سے یرغمالیوں کی واپسی میں مدد ملی، تاہم ان پر یہ بات واضح کی جانی چاہیے کہ ان کا منصوبہ اسرائیل کے لیے نقصان دہ ہے اور اسے واپس لیا جانا چاہیے۔
انتہا پسند دائیں بازو کی جماعت ’’مذہبی صہیونیت‘‘ کے سربراہ اسموتریچ نے دعویٰ کیا کہ غزہ ہمارا ہے اور اس کا مستقبل کسی اور سے زیادہ ہمارے مستقبل پر اثر انداز ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں وہاں ہونے والے تمام معاملات کی ذمہ داری خود سنبھالنی ہوگی، فوجی حکومت نافذ کرنی ہوگی اور مشن کو اس کے انجام تک پہنچانا ہوگا۔
اسموتریچ نے اس فوجی و شہری رابطہ مرکز کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا جو واشنگٹن نے گزشتہ سال جنوبی شہر کریات گات میں قائم کیا تھا اور جو ٹرمپ منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ